اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پرسوں اپنی قوم سے خطاب کیا گویا تقریر کا موضوع مشرق وسطی کی صورت حال پر امریکی موقف دہرانا تھا لیکن مشرق وسطی کے تقریبا تمام ماہرین نے کہا کہ اوباما کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی اور تضادات کا یہ مجموعہ گذشتہ چار مہینوں کے دوران امریکی رویوں سے سب کو سمجھ میں آگیا ہے۔اوباما اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ یا ہماری اصطلاح کے مطابق وزارت خارجہ کے دفتر گئے تھے اور انھوں نے وہیں سے فبض رسانی کرتے ہوئے کہا: گذشتہ 6 مہینوں کے دوران دنیا شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں غیر معمولی صورت حال اور خارق العادہ تبدیلیوں کا نظارہ دیکھ رہی ہے، اب تک دو راہنما برطرف ہوچکے ہیں اور قومیں اپنے بنیادی حقوق کے لئے اٹھی ہوئی ہیں چنانچہ ممکن ہے کہ کئی دوسرے راہنما بھی اقتدار کھوجائیں۔ اوباما اپنے اسلاف کی مانند گاڈ فادر کا لب و لہجے میں اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے اور گذشتہ کئی عشروں کے دوران خونخوار آمریتوں کی امریکی حمایت جیسے عظیم جرم کو چھپانے اور علاقے کی انقلابی قوموں کی آنکھوں میں ایک بار دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی۔گویا اوباما کے پاس قوموں کا غضب ٹھنڈا کرنے کے لئے پیسوں اور مالی امداد کے وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ انھوں نے کہا: امریکا مصر کو انقلاب سے پیدا شدہ صورت حال سے نکلنے کے لئے مالی امداد دے گا اور مصری قوم کی مدد کرے گا؛ امریکہ مصر کو ایک ارب ڈالر کا قرضہ بخش دے گا اور قاہرہ کو عالمی مارکیٹ تک پہنچنے کے لئے راستہ فراہم کرے گا؛ امریکی انتظامیہ مصر اور تیونس میں سرمایہ کاری فنڈز قائم کرنے کے لئے کانگریس کے ساتھ تعاون کرے گا۔ یہ فنڈز بالکل اسی طرز کے ہونگے جو 1990 میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد مشرقی یورپ کے ممالک میں قائم ہوئے تھے۔امریکی صدر البتہ بحرین کے بارے میں اعلانیہ طور پر منافقانہ موقف اپنا کر یک بام و دو ہوا کی روایتی امریکی پالیسی پر کاربند رہے۔ انھوں نے بشار اسد اور معمر قذافی کے لئے الگ الگ نسخے تجویز کئے لیکن بحرین کے بارے میں صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ: بحرین میں وسیع اور اندھادھند گرفتاریاں اور فوجی قوت کا بے رحمانہ استعمال شہری حقوق کے عالمی قوانین کے منافی ہے اور یہ کہ بحرین میں اہل تشیع کی مساجد کا انہدام نہیں ہونا چاہئے۔ یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع کے دورہ بحرین کے ساتھ ہی آل سعود سمیت خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں نے بحرین ملک پر فوجی جارحیت کردی، امریکی سفیر نے آل خلیفہ حکمرانوں کے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو نظر انداز کرکے کہا کہ اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اور چند ہی روز قبل دو امریکی اہلکاروں نے دورہ بحرین کے دوران سفاک آل خلیفی بادشاہ کے مظالم پر مہر تأئید ثبت کردی ہے۔اوباما نے کہا کہ بحرین میں شیعہ مساجد کو منہدم نہیں کرنا چاہئے جس طرح کہ مصر میں عیسائیوں کو آزادی کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق ہونا چاہئے اور انہیں دینی اور مذہبی عبادات و مراسمات کے لئے پوری آزادی ملنی چاہئے لیکن انھوں نے یہ نہیں کہا کہ مصر میں عیسائی اقلیت رہتی ہے جبکہ بحرین کی اکثریتی آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے اور ان کو انتخاب کا حق ملنا چاہئے اور یہ کہ جمہوری اصولوں کے مطابق اقلیت کو اکثریت پر حکومت کا حاصل نہیں ہے بلکہ تشکیل حکومت کا حق اکثریت کو ہی حاصل ہے۔انھوں نے پھر بھی اپنے اسلاف کی مانند جھوٹ بولتے ہوئے اور طویل مدت تک دنیا کے متعدد ممالک میں آمریتوں اور بادشاہتوں کی مکمل حمایت کی امریکی پالیسی ـ جو اسی وقت بھی جاری ہے ـ نیز بہت سے ملکوں میں جمہوریت کا خاتمہ کرکے استبدادی اور آمرانہ حکومتوں کی تشکیل میں امریکی کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکہ ہمیشہ سے مشرق وسطی میں سیاسی اور معاشی اصلاحات کا حامی رہا ہے! مگر یہ وضاحت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ "ان کی حکومت اتنے بلند بانگ نعروں کے باوجود بحرین میں قتل عام، وسیع اور اندھادھند گرفتاریوں، تشدد اور ٹارچر، جنسی جرائم، فوجی عدالتوں میں عوام اور ڈاکٹروں نیز انسانی حقوق کے فعال راہنماؤں اور اساتذہ اور طلبہ پر مقدمات قائم کرنے اور نابالغ بچوں کو پھانسی کی سزائیں سنانے اور ہر قسم کے مدنی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی لگائے جانے اور سب سے زیادہ بھونڈے عمل یعنی سعودی اور امارات کی فوجی جارحیت، پر خاموش کیوں ہے اور بحرین کے سفاک بادشاہ اور خونخوار وزیر اعظم کے خلاف عوامی انقلاب کی حمایت کی بجائے ہر ہفتے اپنے سیاسی اور فوجی نیز سیکورٹی اہلکاروں کو امریکی حمایت کی یقین دہانی کے لئے بحرین کیوں روانہ کررہی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز